سرسی :29؍مئی(ایس اؤ نیوز) لاک ڈاؤن کے بعد ٹرانسپورٹیشن شروع کئے ہوئے 10دن ہونے کے باوجود ضلعی عوام بسوں کے ذریعے سفر کرنے میں پس و پیش کررہی ہے ، جس کے نتیجے میں اترکنڑا ڈویزن کو یومیہ قریب 48لاکھ روپیوں کا نقصان ہونے کی جانکاری موصول ہوئی ہے۔
کووڈ-19کو کنٹرول کرنےکی خاطر لاک ڈاؤن نافذ کیاگیاتو بسوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی تھی۔ ڈیڑھ ماہ بعد 19مئی کو بس ٹرانسپوٹیشن شروع کیا گیا ۔ افسران نے پہلے ہی دن 70بسوں کو ڈورانے کی تیاری کرلی تھی لیکن مسافر نہ ہونے کی وجہ سے صرف 11 بسیں ہی چل پائیں۔ کئی مقامات پر بازار، دکانیں وغیرہ کھل چکی ہیں ، عوامی زندگی معمول پر لوٹ رہی ہے اس کے باوجود عوام سفر کے لئے تیار نظر نہیں آرہے ہیں۔
کووڈ-19سے پہلے ضلع میں ہر دن 105بسیں دوڑا کرتی تھیں۔ اب روزانہ صرف 35بسیں چل رہی ہیں۔ تب ایک دن میں 50 لاکھ روپئے کی آمدنی ہوتی تھی تو اب صرف 1.5لاکھ روپئے کی کمائی ہورہی ہے۔ ضلع سے بنگلورو سمیت ہر مقام کے لئے بسیں چل رہی ہیں لیکن مسافر ہی نہیں ہیں۔ خیال رہے کہ جو بسیں چل رہی ہیں و ہ صرف تعلقہ جات مقام پر ہی رکتی ہیں ۔ دیہی علاقوں کے لئے ابھی بسوں کی سروس شروع نہیں کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ڈویزنل افسر وویک ہیگڈے نے بتایا کہ 31مئی کو لاک ڈاؤن 4ختم ہونے کے بعد سرکاری سطح پر جو فیصلہ لیاجاتاہے ہم اس کے مطابق عمل کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مسافروں کی حفاظت کے لئے ہر طرح کی تیاری کرلی گئی ہے اس کے باوجود عوام خوف کی وجہ سے سفر کرنے سے گریز کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اپریل اور مئی میں ہردن 60لاکھ روپئے کی آمدنی ہوتی تھی اب ماہانہ قریب 15کروڑ روپیوں کا نقصان ہورہا ہے۔ خیال رہے کہ اترکنڑا ضلع میں ایک دن میں 501بسیں دوڑتی ہیں ، 3400ٹرپ ہوتی ہیں ، کل 1650ڈرائیور اور کنڈکٹر خدمات انجام دیتے ہیں۔